MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بخشش ہے تیری ہاتھ میں دنیا لیے ہوئے

غزل

بخشش ہے تیری ہاتھ میں دنیا لیے ہوئے
میں چپ کھڑا ہوں دیدۂ بینا لیے ہوئے

صحرا کو کیا خبر کہ ہے ہر ذرۂ حقیر
مٹھی میں اپنی قسمت صحرا لیے ہوئے

اس شام سے ڈرو جو ستاروں کی چھاؤں میں
آتی ہو اک حسین اندھیرا لیے ہوئے

اے وقت اک نگاہ کہ کب سے کھڑے ہیں ہم
آئینۂ تصور فردا لیے ہوئے

گزرا تھا اس دیار سے سورج کا اک سفیر
ہر نقش پا میں اک ید بیضا لیے ہوئے

آیا یہ کون سایۂ زلف دراز میں
پیشانئ سحر کا اجالا لیے ہوئے

لائی تھی بے خودی جسے اس در پہ وہ جمیلؔ
جاتا ہے اب خودی کا جنازا لیے ہوئے

 جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم