MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمارا تو کوئی سہارا نہیں ہے

غزل

ہمارا تو کوئی سہارا نہیں ہے
خدا ہے تو لیکن ہمارا نہیں ہے

محبت کی تلخی گوارا ہے لیکن
حقیقت کی تلخی گوارا نہیں ہے

مری زندگی وہ خلا ہے کہ جس میں
کہیں دور تک کوئی تارا نہیں ہے

خدا کیا خودی کو بھی آواز دی ہے
مصیبت میں کس کو پکارا نہیں ہے

سراب اک حقیقت ہے آب اک تصور
یہی زندگی ہے تو چارا نہیں ہے

ہم اپنی ہی آنکھوں کا پردہ الٹ دیں
حقیقت کو یہ بھی گوارا نہیں ہے

وہ کیا ان کے گیسو سنوارے گا جس نے
گریباں بھی اپنا سنوارا نہیں ہے

خدا اس سے نپٹے تو نپٹے کہ یہ دل
ہمارا نہیں ہے تمہارا نہیں ہے

نظر ان کی گوشہ نشیں ہے حیا سے
اشارا نہیں یہ اشارا نہیں ہے

ہمارا ہے کیا جب ہمارا ارادہ
ہمارا ہے لیکن ہمارا نہیں ہے

گریباں بہت سے ہوئے پارہ پارہ
نقاب ایک بھی پارہ پارا نہیں ہے

کسی کے لیے دل کو سلگا کے دیکھو
جہنم کوئی استعارا نہیں ہے

بجز مظہریؔ کے سبھی بزم میں ہیں
وہی تیرے وعدوں کا مارا نہیں ہے

جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم