MOJ E SUKHAN

تعلقات تو مفروضے زندگی کے ہیں

غزل

تعلقات تو مفروضے زندگی کے ہیں
یہاں نہ کوئی ہے اپنا نہ ہم کسی کے ہیں

نہ عشق ہی کے اثر ہیں نہ دشمنی کے ہیں
کہ سارے زخم مرے دل پہ دوستی کے ہیں

چراغ اگرچہ نمائندے روشنی کے ہیں
مگر یہ ہے کہ یہ آثار تیرگی کے ہیں

تمہاری تیز روی دے گی کیا سوائے غبار
کہ نقش پا بھی نتیجے سبک روی کے ہیں

شکوک کیا ہیں مرے دوست آگہی کا بلوغ
یقین کیا ہے گھروندے کچھ آگہی کے ہیں

جمیلؔ اپنا سخن ان پہ رائیگاں نہ کرو
یہ مولوی کی سنیں گے یہ مولوی کے ہیں

جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم