MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تو نے نظروں کو بچا کر اس طرح دیکھا مجھے

تو نے نظروں کو بچا کر اس طرح دیکھا مجھے
کیوں نہ کر جاتا بھری محفل میں دل تنہا مجھے

شاخ در شاخ اب کوئی ڈھونڈا کرے پتہ مجھے
میں تو خود ٹوٹا ہوں آندھی نے نہیں توڑا مجھے

لغزش پا نے دیا ہر راہ میں دھوکا مجھے
تا در منزل تو ہی اے جذب دل پہنچا مجھے

صورت آئینہ حیرت سے وہ تکتا رہ گیا
آئنہ خانے میں جس نے غور سے دیکھا مجھے

مار ہی ڈالے گی اک دن کاروبار زیست میں
تنگ دامانی تری اے وسعت دنیا مجھے

عمر بھر ملتی رہی تیری عدالت سے نہ پوچھ
میری نا کردہ گناہی کی سزا کیا کیا مجھے

برگ گل پر رقص شبنم کا یہ منظر اے ضیاؔ
اب تو آتا ہے نظر ہر قطرے میں دریا مجھے

ضیاء فتح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم