MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے جنوں میں مری وفا میں خلوص کی جب کمی ملے گی

مرے جنوں میں مری وفا میں خلوص کی جب کمی ملے گی
چمن گرفت خزاں میں ہوگا بہار اجڑی ہوئی ملے گی

جواں ہے ہمت ہے عزم محکم نظر اٹھائیں تو اہل دانش
الم کے تاریک افق پہ روشن شعاع امید بھی ملے گی

تصور اس ماہرو کا ہوگا کبھی تو دل میں ضیا بدامن
کبھی تو ظلمت کدے میں ہم کو کھلی ہوئی چاندنی ملے گی

مرا پتہ پوچھ کر نہ توڑو سکوت میرا جمود میرا
بلند محلوں میں رہنے والو کہاں مری جھونپڑی ملے گی

یہ کور چشمی کا ہے تماشا کہ ظلمتوں کی تہیں جمی ہیں
نظر سے پردہ ہٹا کے دیکھیں یہاں وہاں روشنی ملے گی

روایتی پیکر غزل میں بھرا ہے رنگ جدید میں نے
ضیاؔ مرے شعر میں مہیا کوئی نئی بات ہی ملے گی

ضیاء فتح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم