MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نظر نظر سے ملانا کوئی مذاق نہیں

نظر نظر سے ملانا کوئی مذاق نہیں
ملا کے آنکھ چرانا کوئی مذاق نہیں

پہاڑ کاٹ تو سکتا ہے تیشۂ فرہاد
پہاڑ سر پہ اٹھانا کوئی مذاق نہیں

اڑانیں بھرتے رہیں لاکھ طائران خیال
ستارے توڑ کے لانا کوئی مذاق نہیں

لہو لہو ہے جگر داغ داغ ہے سینہ
یہ دو دلوں کا فسانہ کوئی مذاق نہیں

ہوائیں آج بھی آوارہ و پریشاں ہیں
مہک گلوں کی اڑانا کوئی مذاق نہیں

ہزاروں کروٹیں لیتے ہیں آسمان و زمیں
گرے ہوؤں کو اٹھانا کوئی مذاق نہیں

یہ اور بات بلائیں نہ اپنی محفل میں
مگر ضیاؔ کو بھلانا کوئی مذاق نہیں

ضیاء فتح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم