MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھے میرے گھنے سائے میں تنہا چھوڑ جاتا ہے

مجھے کچھ اور بھی تپتا سلگتا چھوڑ جاتا ہے
سحاب اکثر میرے سینے پہ دریا چھوڑ جاتا ہے

وہی اک رائیگاں لمحہ کہ میں جس کا شناور ہوں
نگاہوں میں مری شہر تماشا چھوڑ جاتا ہے

گزرتا ہے جس آئینے سے بھی موسم شراروں کا
چمن کو ساتھ لے جاتا ہے صحرا چھوڑ جاتا ہے

نواح دشت میں خوش منظری تقسیم کرتا ہے
وہ بادل جو مری بستی کو پیاسا چھوڑ جاتا ہے

مرے کمرے کی دیواروں میں ایسے آئنے بھی ہیں
کہ جن کے پاس ہر شخص اپنا چہرا چھوڑ جاتا ہے

وہ میرے راز مجھ میں چاہتا ہے منکشف کرنا
مجھے میرے گھنے سائے میں تنہا چھوڑ جاتا ہے

عجب شعلہ ہے عشرتؔ اس کا لمس بے نہایت بھی
مرے چاروں طرف جو اک اجالا چھوڑ جاتا ہے

عشرت ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم