MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

فلک نے بھیجے ہیں کیا جانے کس وسیلے سے

فلک نے بھیجے ہیں کیا جانے کس وسیلے سے
لہو کے بحر میں بھی کچھ صدف ہیں نیلے سے

ابھی تو قافلۂ باد سبز راہ میں ہے
اسی لیے تو ہیں اشجار دشت پیلے سے

جو میرے ساتھ ہے صدیوں سے مثل عکس بہار
خبر نہیں کہ ہے وہ شخص کس قبیلے سے

پڑا ہے کب سے سیہ پوش میرا دشت بدن
چراغ اس میں جلا دے کسی بھی حیلے سے

قیاس کہتا ہے ان کے عقب میں ہے سورج
چمک رہے ہیں افق پر جو زرد ٹیلے سے

ہے لمس آب سے محروم دشت خاک و ہوا
نہ جانے کس لیے ذرات پھر ہیں گیلے سے

رگوں میں آج بھی روشن ہیں سرخ و زرد چراغ
عجیب شے تھے وہ عشرت بدن نشیلے سے

عشرت ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم