MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں ڈوبتے سورج کے ہم راہ نہ مر جاؤں

ساحل پہ سمندر کے کچھ دیر ٹھہر جاؤں
ممکن ہے کہ موجوں کے ماتھے پہ ابھر جاؤں

تپتے ہوئے لمحوں کو سیراب تو کر جاؤں
اک موج صدا بن کر صحرا میں بکھر جاؤں

ہر سنگ ہے اک شیشہ ہر شیشہ ہے اک پتھر
اے شہر طلسم آخر ٹھہروں کہ گزر جاؤں

لاؤ نہ اجالوں کو اس شہر کی سرحد تک
ایسا نہ ہو میں اپنے سائے سے ہی ڈر جاؤں

ہر سمت فضاؤں میں پتھراؤ کا عالم ہے
شیشے کا بدن لے کر جاؤں تو کدھر جاؤں

ہر شام مرے دل میں دیتا ہے صدا کوئی
میں ڈوبتے سورج کے ہم راہ نہ مر جاؤں

روکے نہ اگر مجھ کو اس دشت کی تنہائی
عشرتؔ میں ہواؤں کے پیکر میں اتر جاؤں

عشرت ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم