MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوں

کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوں
نہیں کچھ یاد کیا بھولا ہوا ہوں

خبر گیری کروں گا کیا کسی کی
میں خود اپنا پتا بھولا ہوا ہوں

اگر مانگوں تو شاید پا سکوں کچھ
مگر حرف دعا بھولا ہوا ہوں

خود اپنے شہر ہی میں ہوں مسافر
میں گھر کا راستہ بھولا ہوا ہوں

مجھے ہے یاد جو تجھ سے سنا تھا
خود اپنا ہی کہا بھولا ہوا ہوں

ہوں زندہ اس لیے فرقت میں اب تک
کہ نشہ وصل کا بھولا ہوا ہوں

دعائیں مانگتا ہوں سب کی خاطر
خود اپنا مدعا بھولا ہوا ہوں

غم دنیا غم دوراں غم دل
سبھی تیرے سوا بھولا ہوا ہوں

ندیمؔ اس کے بنا جیون یہ میرا
جزا ہے یا سزا بھولا ہوا ہوں

فرحت ندیم ہمایوں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم