MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دے

مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دے
پیار کر ٹوٹ کے مجھ سے مجھے پاگل کر دے

لوٹ لے میرا سکوں اور مجھے بے کل کر دے
یوں سمٹ آ مری بانہوں میں انہیں شل کر دے

دیکھ کر پہلی نظر میں جو امڈ آئے تھے
پھر سے جذبات میں پیدا وہی ہلچل کر دے

بن کے گھنگھور گھٹا مجھ پہ تو چھا کھل کے برس
خشک صحرا کو مرے جسم کے جل تھل کر دے

کس طرح وقت گزرتا ہے پتہ ہی نہ چلے
ابتدا آج سے کر اور اسے کل کر دے

تیرے بن مجھ کو ادھورا سا لگے اپنا وجود
یوں سما مجھ میں مرا جسم مکمل کر دے

جھیل آنکھوں کی مری جان ذرا صدقہ اتار
اور مرے نام تو آنکھوں کا یہ کاجل کر دے

اور کچھ تجھ سے نہیں مانگتا اے جان حیات
وقت بس میرے لیے اپنا ہر اک پل کر دے

چاہتا ہوں کہ نہ دیکھیں تجھے دنیا والے
صرف پردے کے لیے سامنے آنچل کر دے

قبل اس کے مجھے جھلسا دے غموں کا سورج
مجھ پہ تو اپنی سیہ زلفوں کا بادل کر دے

میرے اللہ نظر بھر کے اسے دیکھ تو لوں
پھر تو چاہے مری آنکھوں کو مقفل کر دے

ڈوب جاؤں میں ترے عشق سمندر میں ندیمؔ
اپنی سانسوں سے مری سانسوں کو بوجھل کر دے

فرحت ندیم ہمایوں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم