MOJ E SUKHAN

محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا

محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا
وہ یوں بدلے گا یہ سوچا نہیں تھا

عجب ہے سہہ کے زخم بے وفائی
یہ دل کہتا ہے وہ ایسا نہیں تھا

سبب کوئی تو ہے ان نفرتوں کا
میں جھوٹا تھا کہ وہ سچا نہیں تھا

نہ جانے کیوں مرے حصے میں آیا
وہ دکھ قسمت میں جو لکھا نہیں تھا

بہت تنہائیاں تھیں اس سے پہلے
مگر اتنا بھی میں تنہا نہیں تھا

چلو کچھ تو گھٹن کم ہو گئی ہے
بہت دن ہو گئے رویا نہیں تھا

کنارے پر کھڑا وہ کہہ رہا ہے
سمندر اس قدر گہرا نہیں تھا

سبھی کچھ ہے ندیمؔ اب پاس میرے
بس اک وہ شخص جو میرا نہیں تھا

فرحت ندیم ہمایوں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم