MOJ E SUKHAN

نئے مزاج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں

نئے مزاج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں
ہم اپنے آپ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں

قبول ترک تعلق نہیں ہے لیکن ہم
تمہارے حکم کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں

غموں کے فیل نہ ڈھا دیں کہیں یہ کعبۂ دل
سو ہم دعائے ابابیل کرنا چاہتے ہیں

ہمارے جلنے سے ملتی ہے روشنی تم کو
تو روشن اب یہی قندیل کرنا چاہتے ہیں

جب ان کی کوئی بھی تعبیر پا نہیں سکتے
ہوا میں خوابوں کو تحلیل کرنا چاہتے ہیں

کتاب زیست میں مشکل ہے باب عشق ندیمؔ
ہم ایسے باب کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں

فرحت ندیم ہمایوں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم