MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

حیران ہوں کہ آج یہ کیا حادثہ ہوا

حیران ہوں کہ آج یہ کیا حادثہ ہواہے آگ سرد دل بھی ہے میرا بجھا ہوا منزل پہ پہلے میری رسائی ہوئی تو پھرہر نقش پا سے آگے مرا نقش پا ہوا ریکھائیں ہاتھ کی تو سوا جاگتی رہیںاے کاش میرا بخت رہے جاگتا ہوا تھی اس کی بند مٹھی میں چٹھی دبی ہوئیجو شخص […]

حیران ہوں کہ آج یہ کیا حادثہ ہوا Read More »

ہمارے چہرے پہ رنج و ملال ایسا تھا

ہمارے چہرے پہ رنج و ملال ایسا تھامسرتوں کا زمانے میں کال ایسا تھا فضائے شہر میں بارود کی تھی بو شاملکہ سانس لینا بھی ہم کو محال ایسا تھا امیر شہر کے ہونٹوں پہ پڑ گئے تالےغریب شہر کا چبھتا سوال ایسا تھا بہ وقت شام سمندر میں گر گیا سورجتمام دن کی تھکن

ہمارے چہرے پہ رنج و ملال ایسا تھا Read More »

ہر ایک راہ میں امکان حادثہ ہے ابھی

ہر ایک راہ میں امکان حادثہ ہے ابھیکہ کھو نہ جاؤں اندھیرے میں سوچنا ہے ابھی تمام عمر وہ چلتا رہا ہے صحرا میںگھنے درخت کے سائے میں جو کھڑا ہے ابھی سکون تیرے تصور سے جس کو ملتا ہےوہ تیری دید کو لیکن تڑپ رہا ہے ابھی ہر ایک شخص کے چہرے پہ خوف

ہر ایک راہ میں امکان حادثہ ہے ابھی Read More »

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیاہوا چلی تو گلابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا کہاں ہیں اب وہ مہکتے ہوئے حسیں منظرکھلی جو آنکھ تو خوابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا ذرا سی دیر میں بیمار غم ہوا رخصتپلک جھپکتے ہی لوگوں سے رشتہ ٹوٹ گیا گلاب تتلی دھنک روشنی کرن جگنوہر ایک شے کا

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا Read More »

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کےورق ورق پہ ہیں تحریر خواب زخموں کے سوال پھول سے نازک جواب زخموں کےبہت عجیب ہیں یہ انقلاب زخموں کے غریب شہر کو کچھ اور غمزدہ کرنےامیر شہر نے بھیجے خطاب زخموں کے سروں پہ تان کے رکھنا ثواب کی چادراترنے والے ہیں اب کے عذاب زخموں کے

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے Read More »

اس کو کوئی غم نہیں ہے جس کا گھر پتھر کا ہے

اس کو کوئی غم نہیں ہے جس کا گھر پتھر کا ہےکیا کرے گا تیز طوفاں بام و در پتھر کا ہے ایسے انساں سے کبھی امید کیا رکھے کوئیدیکھنے میں آدمی ہے دل مگر پتھر کا ہے کون سا ہے شہر جس میں میں بھٹک کر آ گیاراستے پتھر کے ہیں اور بام و

اس کو کوئی غم نہیں ہے جس کا گھر پتھر کا ہے Read More »

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھشور کرتا ہوں سیہ رات میں زنجیر کے ساتھ سرخ پھولوں کی گھنی چھاؤں میں چپکے چپکےمجھ سے ملتا تھا کوئی اک نئی تنویر کے ساتھ اک تری یاد کہ ہر سانس کے نزدیک رہیاک ترا درد کہ چسپاں رہا تقدیر کے ساتھ کبھی زخموں کا بھی

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ Read More »

میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھا

میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھایہ واقعہ جو سنایا تو وہ بھی رو بیٹھا تمہاری آس میں آنکھوں کو میں بھگو بیٹھاکہ دل میں یاس کے کانٹے کئی چبھو بیٹھا متاع حال نہ ماضی کا کوئی سرمایہندی میں وقت کی ہر چیز کو ڈبو بیٹھا سنہرے وقت کی تحریریں جن میں تھیں

میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھا Read More »

میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھا

میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھاچند الفاظ کو ماضی کے بھلانے بیٹھا حادثے سے ہی ہوا غم کا مداوا میرےفلسفہ صبر کا لوگوں کو پڑھانے بیٹھا تھک کے سائے میں ببولوں کے سکوں جب چاہااس کا ہر پتہ مجھے کانٹے لگانے بیٹھا جس نے توڑا سبھی ناطوں سبھی رشتوں کو مرےعمر بھر کا

میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھا Read More »

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہےتمنا گھر میں تنہا سو رہی ہے صدائیں گھٹ گئیں سینے کے اندرخموشی اپنی پتھر ہو رہی ہے تمناؤں کے سینے پر رکھے سراداسی بال کھولے سو رہی ہے سنا ہے اپنا چہرہ زندگانیمسلسل آنسوؤں سے دھو رہی ہے یہاں سے اور وہاں تک نا امیدیہمارے دل کا عنواں ہو

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے Read More »