MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کو کوئی غم نہیں ہے جس کا گھر پتھر کا ہے

اس کو کوئی غم نہیں ہے جس کا گھر پتھر کا ہے
کیا کرے گا تیز طوفاں بام و در پتھر کا ہے

ایسے انساں سے کبھی امید کیا رکھے کوئی
دیکھنے میں آدمی ہے دل مگر پتھر کا ہے

کون سا ہے شہر جس میں میں بھٹک کر آ گیا
راستے پتھر کے ہیں اور بام و در پتھر کا ہے

آ گئے ہیں آگ کی زد میں ہزاروں جھونپڑے
مجھ کو لیکن ہے تسلی اپنا گھر پتھر کا ہے

اپنے دامن میں چھپائیں کیوں نہیں بچے انہیں
ہیں سبھی ٹوٹے کھلونے پھر بھی ڈر پتھر کا ہے

ان سے امید وفا رکھنا بھی نیرؔ ہے فضول
بے مروت سب کے سب ہیں اور نگر پتھر کا ہے

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم