MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا

سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتاجھوٹوں کے لئے شہر بھی چھوڑا نہیں جاتا تم کتنا ہی عہدوں سے نوازو ہمیں لیکننفرت کا شجر ہم سے تو بویا نہیں جاتا سوچو تو جوانی کبھی واپس نہیں آتیدیکھو تو کبھی آ کے بڑھاپا نہیں جاتا دل پر تو بہت زخم زمانے کے لگے ہیںخود داری […]

سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا Read More »

اک جشنِ باوقار ہے چھبیس جنوری

اک جشنِ باوقار ہے چھبیس جنوریاک وجہہِ افتخار ہے چھبیس جنوری پرچم کشائی کیجئے ہرجا بصد خلوصمیزانِ اعتبار ہے چھبیس جنوری دستور ہند کا تھا اسی دن ہوا نفاذاُس کی ہی یادگار ہے چھبیس جنوری دنیا میں ہے جو ہند کی عظمت کا اک نشاںوہ جشن شاندار ہے چھبیس جنوری گلہائے رنگا رنگ ہیں اس

اک جشنِ باوقار ہے چھبیس جنوری Read More »

ہے ضروری اک موقر زندگانی کے لئے

ہے ضروری اک موقر زندگانی کے لئے’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے‘‘ رکھ سکے اب بھی نہ گر اپنی صفوں میں اتحادرہئے پھر تیار مرگِ ناگہانی کے لئے اب ابابیلوں کے لشکر کا کریں مت انتظارہے عمل کی بھی ضرورت کامرانی کے لئے آپ کے پیشِ نظر ہے گر بقائے باہمیسوچئے اپنی حیاتِ

ہے ضروری اک موقر زندگانی کے لئے Read More »

اللہ کا ہے فضل و کرم سرورِ دیں ﷺ پر

اللہ کا ہے فضل و کرم سرورِ دیں ﷺ پرنازل ہوئیں قرآن کی آیات اُنہیں پر معراج کی شب کتنی حسیں تھی یہ ملاقات’’محبوب و مُحِب دونوں ملے عرشِ بریں پر‘‘ جو اوجِ شرف رحمت عالم کو ہے حاصلکونین میں ایسا نہیں کوئی بھی کہیں پر شَل ہوگئی اُن کے پرِ پَرواز کی قوتتھی تنگ

اللہ کا ہے فضل و کرم سرورِ دیں ﷺ پر Read More »

تاجدار رسالت پہ لاکھوں سلام

تاجدار رسالت پہ لاکھوں سلام’’شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام‘‘ منبعِ خیر و برکت پہ لاکھوں سلامپیکرِ حلم و رحمت پہ لاکھوں سلام جس کا ثانی نہیں کوئی بعد از خدااس کی اس شان و شوکت پہ لاکھوں سلام جس کے زیرِ نگیں ہیں یہ کون و مکاںاس کے دورِ حکومت پہ لاکھوں سلام دسترس

تاجدار رسالت پہ لاکھوں سلام Read More »

ھستم در انتظارِ تو ای جانِ من بیا

ھستم در انتظارِ تو ای جانِ من بیاای رشک گلعذار بیا در چمن بیا دامن کشان مرو زِ دلِ بیقرارِ منبا صد خرامِ نازچو سر و و سَمن بیا صبر آزما است درِ شبِ ھجرم فراقِ توای آنکہ دوست دارمت از جان و تن بیا ھستم دچارِ گردشِ آشوبِ روزگارزاں پیشتر نھفتہ شوم در کفن

ھستم در انتظارِ تو ای جانِ من بیا Read More »

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی (25 دسمبر 1954 – 5 دسمبر 2022) ایک بھارتی ادیب شاعر تھے۔ ان کے والد رحمت الہی برقی اعظمی دبستان داغ دہلوی سے تعلق رکھتے تھے اور ایک استاد شاعر تھے ۔ احمد علی برقی اعظمی کی ابتدائی تعلیم شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ میں ہوئی۔ 1977 میں وہ آل انڈیا ریڈیو کے شعبہ فارسی سے منسلک ہو گئے

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی Read More »

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتےاک عمر ہوئی یاد کے سائے نہیں جاتے اشکوں سے خبردار کہ آنکھوں سے نہ نکلیںگر جائیں یہ موتی تو اٹھائے نہیں جاتے ہر جنبش دامان جنوں جان ادب ہےاس راہ میں آداب سکھائے نہیں جاتے ہم بھی شب گیسو کے اجالوں میں رہے ہیںکیا کیجیے دن

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے Read More »

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسےاب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے ہر نفس حلقۂ زنجیر نظر آتا ہےزندگی جرم تمنا کی سزا ہو جیسے کان بجتے ہیں سکوت شب تنہائی میںوہ خموشی ہے کہ اک حشر بپا ہو جیسے اب تو دیوانوں سے یوں بچ کے

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے Read More »

گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئے

گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئےہیں اب بھی دل میں تیرے حوالے پڑے ہوئے دشت وفا میں جل کے نہ رہ جائیں اپنے دلوہ دھوپ ہے کہ رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے شعلہ سا رنگ کیا ہے وہ حسن کرشمہ سازہیں کشمکش میں دیکھنے والے پڑے ہوئے شبنم سزا ہے جرأت افشائے

گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئے Read More »