MOJ E SUKHAN

گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئے

گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئے
ہیں اب بھی دل میں تیرے حوالے پڑے ہوئے

دشت وفا میں جل کے نہ رہ جائیں اپنے دل
وہ دھوپ ہے کہ رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے

شعلہ سا رنگ کیا ہے وہ حسن کرشمہ ساز
ہیں کشمکش میں دیکھنے والے پڑے ہوئے

شبنم سزا ہے جرأت افشائے راز کی
گویا زبان گل میں ہیں چھالے پڑے ہوئے

دیکھو ہمیں کہ منزل ہوش و طلب میں ہیں
لیکن لب سوال پہ تالے پڑے ہوئے

بے حس گزر نہ یوں چمن روزگار سے
کانٹے یا پھول کچھ تو اٹھا لے پڑے ہوئے

جائیں گے شکل نو سے سر بزم یار ہوشؔ
منہ پر بھبوت کان میں بالے پڑے ہوئے

ہوش ترمزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم