MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے
اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے

ہر نفس حلقۂ زنجیر نظر آتا ہے
زندگی جرم تمنا کی سزا ہو جیسے

کان بجتے ہیں سکوت شب تنہائی میں
وہ خموشی ہے کہ اک حشر بپا ہو جیسے

اب تو دیوانوں سے یوں بچ کے گزر جاتی ہے
بوئے گل بھی ترے دامن کی ہوا ہو جیسے

کہتے کہتے غم دل عمر گزاری لیکن
پھر بھی احساس یہ ہے کچھ نہ کہا ہو جیسے

ہوشؔ بیتابئ احساس کا عالم توبہ
مجھ میں چھپ کر وہ مجھے دیکھ رہا ہو جیسے

ہوش ترمزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم