MOJ E SUKHAN

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے
اک عمر ہوئی یاد کے سائے نہیں جاتے

اشکوں سے خبردار کہ آنکھوں سے نہ نکلیں
گر جائیں یہ موتی تو اٹھائے نہیں جاتے

ہر جنبش دامان جنوں جان ادب ہے
اس راہ میں آداب سکھائے نہیں جاتے

ہم بھی شب گیسو کے اجالوں میں رہے ہیں
کیا کیجیے دن پھیر کے لائے نہیں جاتے

شکوہ نہیں سمجھائے کوئی چارہ گروں کو
کچھ زخم ہیں ایسے کہ دکھائے نہیں جاتے

اے دست جفا سر ہیں یہ ارباب وفا کے
کٹ جائیں تو کٹ جائیں جھکائے نہیں جاتے

اے ہوشؔ غم دل کے چراغوں کی ہے کیا بات
اک بار جلا دو تو بجھائے نہیں جاتے

ہوش ترمزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم