MOJ E SUKHAN

سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا

سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا
جھوٹوں کے لئے شہر بھی چھوڑا نہیں جاتا

تم کتنا ہی عہدوں سے نوازو ہمیں لیکن
نفرت کا شجر ہم سے تو بویا نہیں جاتا

سوچو تو جوانی کبھی واپس نہیں آتی
دیکھو تو کبھی آ کے بڑھاپا نہیں جاتا

دل پر تو بہت زخم زمانے کے لگے ہیں
خود داری سے لیکن کبھی رویا نہیں جاتا

دنیا بھی سکوں سے کبھی رہنے نہیں دیتی
نوحہ بھی کبھی اپنوں کا لکھا نہیں جاتا

پہرے مرے ہونٹوں پہ لگا رکھے ہیں اس نے
چاہوں میں گلا کرنا تو بولا نہیں جاتا

تنکے بھی نہیں چھوڑے ہیں نیرؔ کسی گھر کے
سیلاب وہ آیا ہے کہ دیکھا نہیں جاتا

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم