MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے

ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے
تیری گلی سے آ کے صبا بھی ہوا میں ہے

اے عشق تیری دوسری منزل بھی ہے کہیں
مرنا ہے ابتدا میں تو کیا انتہا میں ہے

لاتی ہے جب صبا تو چمکتے ہیں بام و در
یہ روشنی سی کیا تری بوئے قبا میں ہے

ہر رہ گزر نشاں ہے تری سمت کا مگر
اقرار نا رسی بھی ہر اک نقش پا میں ہے

توصیف حسن اصل میں ہے وصف حسن ساز
بندوں سے جس کو پیار ہے یاد خدا میں ہے

یہ تشنگی یہ پاس وفا یہ ہجوم غم
کیا کاروان شوق کسی کربلا میں ہے

سن کر کہ ہوشؔ نے بھی کیا ترک آرزو
کہرام اک مچا ہوا شہر وفا میں ہے

ہوش ترمزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم