MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے

نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے
جسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلے

قیامت اک بپا ہے سینۂ مجروح الفت میں
نہ تیر دلنشیں نکلے نہ جان مبتلا نکلے

تمہارے خوگر بیداد کو کیا لطف کی حاجت
وفا ایسی نہ کرنا تم جو آخر کو جفا نکلے

گماں تھا کام دل اغیار تم سے پاتے ہیں لیکن
ہماری طرح وہ بھی کشتۂ تیغ جفا نکلے

زبردستی غزل کہنے پہ تم آمادہ ہو وحشتؔ
طبیعت جب نہ ہو حاضر تو پھر مضمون کیا نکلے

وحشت رضا علی کلکتوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم