MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا

وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیاصحرا بنا لیا کبھی دریا بنا لیا یوں رشک کی نگاہ سے کس کس کو دیکھتےہر آرزو کو اپنی تمنا بنا لیا کب تک جہاں سے درد کی دولت سمیٹتےخود اپنے دل کو غم کا خزینہ بنا لیا دنیا کی کوفتوں کو گوارا نہ کر سکےعقبیٰ کو […]

وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا Read More »

زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ

زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤپکار اٹھی ہے میری بے زبانی دیکھتے جاؤ کہاں جاتے ہو الفت کا فسانہ چھیڑ کر ٹھہروپہنچتی ہے کہاں اب یہ کہانی دیکھتے جاؤ تری ظالم محبت نے جسے بد نام کر ڈالااسی مظلوم کی رسوا جوانی دیکھتے جاؤ سناتا ہے کوئی محرومیوں کی داستاں سن لواجڑتی ہے

زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ Read More »

پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہن

پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہنتیرہ تیرہ ہوگیا ہے زندگی کا پیرہن جھکنے لگتی ہیں جبیں پھر آپ کی دہلیز پرجب پہن لیتا ہے انساں آگہی کا پیرہن روزِ محشر سامنا کیسے کریں گے آپ کافخر کرتے ہیں پہن کر جو بدی کا پیرہن آپ کے آتے ہی سب گردِ کدورت دھل گئیہو

پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہن Read More »

ان کی نگاہ لطف کا سایہ نظر میں ہے

ان کی نگاہ لطف کا سایہ نظر میں ہےدیکھوں گا میں بھی دھوپ کہاں تک سفر میں ہے اب نور، مصطفیٰ کا ہماری نظر میںکیا خوف تیرگی کا، اجالا تو گھر میں ہے ٹپکا جو میری آنکھ سے کھل جائے گا بھرمآقا کرم کے اشک ابھی چشمِ تر میں ہے محسوس ہو رہا ہے کہ

ان کی نگاہ لطف کا سایہ نظر میں ہے Read More »

بہ ہر لمحہ پگھلتا جا رہا ہوں

بہ ہر لمحہ پگھلتا جا رہا ہوںنئے سانچے میں ڈھلتا جا رہا ہوں مری منزل مرے پیش نظر ہےمگر رستے بدلتا جا رہا ہوں مرے اشعار میرا آئنہ ہےمیں اپنا فن اگلتا جا رہا ہوں کوئی صورت نکالو زندگی کیکہ اب غم سے بہلتا جا رہا ہوں سفر تو زندگی کی شرط ٹھہرانہ چلنے پر

بہ ہر لمحہ پگھلتا جا رہا ہوں Read More »

خاکداں کو حاصل ذوق نظر سمجھا تھا میں

خاکداں کو حاصل ذوق نظر سمجھا تھا میںخواب کے عالم کو کتنا معتبر سمجھا تھا میں کیا خبر تھی مل کے تو مجھ سے جدا ہو جائے گااس دھندلکے کو نہ جانے کیوں سحر سمجھا تھا میں آج پھرتی ہے نظر ہر راہ میں بھٹکی ہوئیکیوں غبار کارواں کو راہبر سمجھا تھا میں اپنے اندر

خاکداں کو حاصل ذوق نظر سمجھا تھا میں Read More »

شہر میں سائباں بہت سے ہیں

شہر میں سائباں بہت سے ہیںپھر بھی کیوں بے اماں بہت سے ہیں ڈر گئے ایک امتحان سے تممیری جاں! امتحاں بہت سے ہیں لٹ گیا ایک کارواں تو کیاراہ میں کارواں بہت سے ہیں راز الفت کے ہم نہیں مجرمآپ کے راز داں بہت سے ہیں تیری ہی ہم نوا نہیں دنیامیرے بھی ہم

شہر میں سائباں بہت سے ہیں Read More »

زمین فرش فلک سائبان لکھتے ہیں

زمین فرش فلک سائبان لکھتے ہیںہم اس جہان کو اپنا مکان لکھتے ہیں ہمارے عہد کی تاریخ منفرد ہوگیلہو سے اپنے جسے نوجوان لکھتے ہیں یہ جھوٹ ہے کہ حقیقت یہ جبر ہے کہ خلوصجو بے وفا ہیں انہیں مہربان لکھتے ہیں جو آنے والے زمانوں سے با خبر کر دےجبین وقت پہ وہ داستان

زمین فرش فلک سائبان لکھتے ہیں Read More »

زندگی کیا ہر قدم پر اک نئی دیوار ہے

زندگی کیا ہر قدم پر اک نئی دیوار ہےتیرگی دیوار تھی اب روشنی دیوار ہے کیوں بھٹکتی پھر رہے ہیں آج ارباب خردکیا جنوں کے راستے میں آگہی دیوار ہے بچ نہیں سکتی تغیر کے اثر سے کوئی شےپہلے سنتی تھی مگر اب دیکھتی دیوار ہے ہم تو وابستہ ہیں ایسے دور سے جس دور

زندگی کیا ہر قدم پر اک نئی دیوار ہے Read More »