وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا
وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیاصحرا بنا لیا کبھی دریا بنا لیا یوں رشک کی نگاہ سے کس کس کو دیکھتےہر آرزو کو اپنی تمنا بنا لیا کب تک جہاں سے درد کی دولت سمیٹتےخود اپنے دل کو غم کا خزینہ بنا لیا دنیا کی کوفتوں کو گوارا نہ کر سکےعقبیٰ کو […]
وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا Read More »