MOJ E SUKHAN

وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا

وہ وسعتیں تھیں دل میں جو چاہا بنا لیا
صحرا بنا لیا کبھی دریا بنا لیا

یوں رشک کی نگاہ سے کس کس کو دیکھتے
ہر آرزو کو اپنی تمنا بنا لیا

کب تک جہاں سے درد کی دولت سمیٹتے
خود اپنے دل کو غم کا خزینہ بنا لیا

دنیا کی کوفتوں کو گوارا نہ کر سکے
عقبیٰ کو زندگی کا سہارا بنا لیا

تھی کائنات حسن کی سادہ سی اک جھلک
ہم نے نگاہ شوق سے کیا کیا بنا لیا

اس دل کو ہم نے تیری نگاہوں کے ساتھ ساتھ
بیگانہ کر لیا کبھی اپنا بنا لیا

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم