MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ

زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ
پکار اٹھی ہے میری بے زبانی دیکھتے جاؤ

کہاں جاتے ہو الفت کا فسانہ چھیڑ کر ٹھہرو
پہنچتی ہے کہاں اب یہ کہانی دیکھتے جاؤ

تری ظالم محبت نے جسے بد نام کر ڈالا
اسی مظلوم کی رسوا جوانی دیکھتے جاؤ

سناتا ہے کوئی محرومیوں کی داستاں سن لو
اجڑتی ہے کسی کی زندگانی دیکھتے جاؤ

وہ جس کی دل نشیں نظروں میں دیکھی تھی ہنسی تم نے
اسی کے آنسوؤں کی خوں فشانی دیکھتے جاؤ

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم