MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خاکداں کو حاصل ذوق نظر سمجھا تھا میں

خاکداں کو حاصل ذوق نظر سمجھا تھا میں
خواب کے عالم کو کتنا معتبر سمجھا تھا میں

کیا خبر تھی مل کے تو مجھ سے جدا ہو جائے گا
اس دھندلکے کو نہ جانے کیوں سحر سمجھا تھا میں

آج پھرتی ہے نظر ہر راہ میں بھٹکی ہوئی
کیوں غبار کارواں کو راہبر سمجھا تھا میں

اپنے اندر دیکھتا تھا جلوہ‌ ہائے رنگ رنگ
جسم خاکی کو بھی اک شیشے کا گھر سمجھا تھا میں

آ گیا منزل پہ ہر پتھر کو ٹھکراتا ہوا
آپ کے غم کو ہر اک غم کی سپر سمجھا تھا میں

منکشف مجھ پر ہوا جامیؔ وہ رہبر تھا مرا
جس حقیقت آشنا کو بازی گر سمجھا تھا میں

سید معراج جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم