MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ان کی نگاہ لطف کا سایہ نظر میں ہے

ان کی نگاہ لطف کا سایہ نظر میں ہے
دیکھوں گا میں بھی دھوپ کہاں تک سفر میں ہے

اب نور، مصطفیٰ کا ہماری نظر میں
کیا خوف تیرگی کا، اجالا تو گھر میں ہے

ٹپکا جو میری آنکھ سے کھل جائے گا بھرم
آقا کرم کے اشک ابھی چشمِ تر میں ہے

محسوس ہو رہا ہے کہ جنت ہے اردگرد
کتنا سکون الفتِ خیرالبشر میں ہے

میرے رسول باعثِ تخلیقِ کائنات
ہر ذرہ کائنات کا ان کے اثر میں ہے

پھرتی ہے مجھ کو ان کی تمنا لیے ہوئے
رہ رہ کے ساتھ ساتھ ہی منزل سفر میں ہے

ظاہر ہوئی زمیں سے مگر عرش تک گئی
کس شان کی تجلی لباسِ بشر میں ہے

ہمت نہیں مزارِ مقدس کو دیکھ لیں
دیدار کی تڑپ تو ہماری نظر میں ہے

جامی جو حسن چہرہ سرکار میں ملا
وہ نور شمس میں نہ تجلیِ قمر میں ہے

سید معراج جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم