MOJ E SUKHAN

اک کھلا میداں تماشا گاہ کے اس پار ہے

اک کھلا میداں تماشا گاہ کے اس پار ہے
جس میں ہر رقاص کا اک آئنہ تیار ہے

ریت کے ذریعے ہماری منزلیں اور ان کی ہم
پس یہاں سمت سفر کا جاننا بے کار ہے

رات اور طوفان ابر و باد میرے ہر طرف
دور لو دیتی ہوئی اک مشعل رخسار ہے

پھر کبھی اٹھے تو مل لیں گے نہ اتنے دکھ اٹھا
موت سے ہوتا ہوا اک راستہ ہموار ہے

اس طرح باب نصیحت کھول کر بیٹھے ہیں لوگ
جیسے خیر و شر کا دنیا میں کوئی معیار ہے

لہر وہ آئی کہ ہم ہیں اور نشیب گمرہی
غم کے آگے بند اب کے باندھنا دشوار ہے

سلسلہ آواز کا دیکھو کہ خوشے سرسرائے
پھر کھنک ہے دھات کی پھر سانپ کی پھنکار ہے

محمد اظہار الحق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم