MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالا

سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالا
دریچہ کھل رہا تھا خواب میں دیوار کر ڈالا

نشاں ہونٹوں کا لو دینے لگا ہے ذہن میں اب تو
بالآخر میں نے اس کو مشعل رخسار کر ڈالا

نقاہت اور بلا کا حسن اور آنکھوں کی دل گیری
عجب بیمار تھا جس نے مجھے بیمار کر ڈالا

مرے دل سے لپٹتی زلف بھی تو دیکھتا کوئی
سبھی نالاں ہیں میں نے شہر کیوں مسمار کر ڈالا

مری اترن سے اپنی ستر پوشی کر رہا ہے وہ
مرے طرز غزل نے کیا اسے نادار کر ڈالا

جو خائف تھے غزل میں ذکر بغداد و بخارا سے
وہ خوش ہوں میں نے اب ذکر لب و رخسار کر ڈالا

محمد اظہار الحق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم