MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

متاع بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھا

متاع بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھا
پلٹ کر جب ترا گھر میں نے دیکھا رو دیا تھا

عصا در دست ہوں اس دن سے بینائی نہیں ہے
ستارہ آنکھ میں آیا تھا میں نے کھو دیا تھا

زمانے حسن ثروت ہیچ سب اس کے مقابل
تہی کیسہ کو اس پہلی نظر نے جو دیا تھا

پروں کی ارغوانی چھاؤں پھیلائی تھی سر پر
بہشتی نہر کا پانی مسافر کو دیا تھا

بس اک قندیل تھی جلتی ہوئی اپنے لہو میں
یہی نذرانہ دینا تھا حرم میں سو دیا تھا

محمد اظہار الحق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم