MOJ E SUKHAN

پریشاں کرنے والوں کو پریشاں کون دیکھے گا

پریشاں کرنے والوں کو پریشاں کون دیکھے گا
ہمارے بعد یہ رنگ گلستاں کون دیکھے گا

بجز میرے یہ دلچسپی کا ساماں کون دیکھے گا
جلا کر دل کے داغوں کو چراغاں کون دیکھے گا

کسے گلشن سے اتنا عشق ہے میری طرح گلچیں
قفس میں رکھ کے تصویر گلستاں کون دیکھے گا

اسے رنگیں اسے صد چاک ہونا چاہئے ورنہ
ترا دامن مرا چاک گریباں کون دیکھے گا

بجائے ساغر مے تیرے میخانے میں اے ساقی
چلیں جب بوتلیں ہر دم خمستاں کون دیکھے گا

چمن خود باغباں پامال کرتا ہے تو حیرت کیا
چمن تو اس نے دیکھا ہے بیاباں کون دیکھے گا

حکیم وقت ہوں میں ہی اگر گلشن سے اٹھ جاؤں
تو پھر اے باغباں نبض بہاراں کون دیکھے گا

بچا کر اس کو رکھا ہے کلیجے میں کہ پھر تجھ کو
جو چشم آبلہ پھوٹی پشیماں کون دیکھے گا

دعائیں کیوں نہ دوں ہر دم نگاہ ناز قاتل کو
جو یہ نشتر نہ ہو سوئے رگ جاں کون دیکھے گا

غنیمت یہ بھی ہے اس دور میں پھر ورنہ اے ہمدم
جناب برقؔ صاحب سا سخنداں کون دیکھے گا

رحمت الہی برق اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم