MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گھٹن بڑھی تو ہوا کے خلاف بولیں گے

گھٹن بڑھی تو ہوا کے خلاف بولیں گے
یہ لوگ یوں ہی خدا کے خلاف بولیں گے

کسی کے ساتھ نہیں ہے مناظرہ اپنا
سو آج اپنی انا کے خلاف بولیں گے

ہمارا تجربہ اچھا نہیں رہا، سو ہم
تمام عمر وفا کے خلاف بولیں گے

جھنیں گواہ میسر نہیں عدالت میں
وہ لوگ کیسے سزا کے خلاف بولیں گے

یہ چند لوگ جنھیں بولنا نہیں آتا
زباں ملی تو صدا کے خلاف بولیں گے

رمزی آثم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم