گھٹن بڑھی تو ہوا کے خلاف بولیں گے
یہ لوگ یوں ہی خدا کے خلاف بولیں گے
کسی کے ساتھ نہیں ہے مناظرہ اپنا
سو آج اپنی انا کے خلاف بولیں گے
ہمارا تجربہ اچھا نہیں رہا، سو ہم
تمام عمر وفا کے خلاف بولیں گے
جھنیں گواہ میسر نہیں عدالت میں
وہ لوگ کیسے سزا کے خلاف بولیں گے
یہ چند لوگ جنھیں بولنا نہیں آتا
زباں ملی تو صدا کے خلاف بولیں گے
رمزی آثم