MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خوشبو کو تو گل سےباہر جانا تھا

خوشبو کو تو گل سےباہر جانا تھا
ورنہ ہوا کا چلنا ایک بہانا تھا

پھول رکھے تھے لوگوں نے گلدانوں میں
تتلی کو بھی کچھ دھوکا تو کھانا تھا

جاگ رہی تھی ساتھ مرے تنہائ بھی
قصہ مجھ کو ساری رات سنانا تھا

عمر یہ کیسے پوری کرتے لوگ یہاں
آنا تھا اک سانس کو ، اک کو جانا تھا

: جس نے اشک جلاے رات چراغوں میں
شاید کوئ پتھر دل پگھلانا تھا

اس منزل نے جلدی ہم کو تاک لیا
ورنہ ابھی رستے نے ہمیں بلانا تھا

صحرا دیکھ کے پلٹا، برسا وادی میں
شازیہ اکبر بادل بڑا سیانا تھا

شازیہ اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم