MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو نین بجھ گئے وہ تری دید سے گئے

جو نین بجھ گئے وہ تری دید سے گئے
اور دل بجھے تو چاہ کی تجدید سے گئے

جن کی دراز دستی سے ٹوٹی تھیں چوڑیاں
الزام پر خموش ہیں، تردید سے گئے

جایا نہ جاے گا کبھی آئندہ اس طرف
اک بار جس طرف بڑی امید سے گئے

در اصل اک سہیلی کی مہندی کی رسم تھی
ہم سے کہا گیا بڑی تاکید سے ، گئے

اصناف بھی تو دیتی نہیں ہیں سبھی کا ساتھ
جو شعر سے گئے وہی تنقید سے گئے

جتنا تھا مان، دکھ بھی ہوا اس قدر مجھے
جو عہد سے پھرے، مری تائید سے گئے

آخر میں جو ہوا وہی ہونا تھا شازیہ
افسوس ہم وضاحتِ تمہید سے گئے

شازیہ اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم