MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرح

جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرح
وہ ہمیں بھول گئے ایک کہانی کی طرح

دوستو ڈھونڈ کے ہم سا کوئی پیاسا لاؤ
ہم تو آنسو بھی جو پیتے ہیں تو پانی کی طرح

غم کو سینے میں چھپائے ہوئے رکھنا یارو
غم مہکتے ہیں بہت رات کی رانی کی طرح

تم ہمارے تھے تمہیں یاد نہیں ہے شاید
دن گزرتے ہیں برستے ہوئے پانی کی طرح

آج جو لوگ ترے غم پہ ہنسے ہیں والیؔ
کل تجھے یاد کریں گے وہی فانیؔ کی طرح

والی آسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم