MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگ

بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگ
مگر یہ آنکھ کہ جو ڈھونڈتی تھی ذات کے رنگ

ہمارے شہر میں کچھ لوگ ایسے رہتے ہیں
سفر کی سمت بتاتے ہیں جن کو رات کے رنگ

الجھ کے رہ گئے چہرے مری نگاہوں میں
کچھ اتنی تیزی سے بدلے تھے ان کی بات کے رنگ

بس ایک بار انہیں کھیلنے کا موقع دو
خود ان کی چال بتا دے گی سارے مات کے رنگ

ہوا چلے گی تو خوشبو مری بھی پھیلے گی
میں چھوڑ آئی ہوں پیڑوں پہ اپنی بات کے رنگ

فاطمہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم