MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا

مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا
ہٹا کر مجھ کو تم منظر سے پس منظر پہ لکھ دینا

خبر مجھ کو نہیں میں جسم ہوں یا کوئی سایا ہوں
ذرا اس کی وضاحت دھوپ کی چادر پہ لکھ دینا

اسی کی دید سے محروم جس کو دیکھنا چاہوں
مری آنکھوں کو اس کے خواب گوں پیکر پہ لکھ دینا

اسی مٹی کا غمزہ ہیں معارف سب حقائق سب
جو تم چاہو تو اس جملے کو لوح زر پہ لکھ دینا

بہت نازک ہیں میرے سرو قامت تیغ زن لوگو
ہزیمت خوردگی میری صف لشکر پہ لکھ دینا

کبھی میں بھی اڑانیں بھرنے والا تھا بہت اونچی
مری پہچان اسی ٹوٹے ہوئے شہپر پہ لکھ دینا

سرابوں کے سفر سے تو نہیں لوٹا فضاؔ اب تک
جو خط لکھنا تو اتنی بات اس کے گھر پہ لکھ دینا

فضا ابنِ فیضی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم