MOJ E SUKHAN

روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں

روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں
اس کا ملنا مجھے مشکل نہ ہو آسان نہیں

کوئی دم اور ہے بس خاک ہوئے جانے میں
خاک بھی ایسی کہ جس کی کوئی پہچان نہیں

ٹھیس کچھ ایسی لگی ہے کہ بکھرنا ہے اسے
دل میں دھڑکن کی جگہ درد ہے اور جان نہیں

بوجھ ہے عشق تو پھر کیسے سنبھالیں اس کو
دور تک ساتھ چلیں اس کا تو امکان نہیں

مختلف سمت بہائے لیے جاتا ہے ہمیں
وقت کے ساتھ ہمارا کوئی پیمان نہیں

فاطمہؔ درد کے رشتے سے کنارا کرنا
بے حسی کہہ لو اسے یہ کوئی نروان نہیں

فاطمہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم