MOJ E SUKHAN

جاتا ہے جو گھروں کو وہ رستہ بدل دیا

جاتا ہے جو گھروں کو وہ رستہ بدل دیا
آندھی نے میرے شہر کا نقشہ بدل دیا

پہچان جن سے تھی وہ حوالے مٹا دیے
اس نے کتاب ذات کا صفحہ بدل دیا

کتنا عجیب ہے وہ مصور کہ غور سے
دیکھے جو خد و خال تو چہرہ بدل دیا

وہ کھیل تھا مذاق تھا یا خوف تھا کوئی
اک چال چل کے اس نے جو مہرہ بدل دیا

کرتا رہا اسیری کے احساس کو شدید
زنجیر کھول دی کبھی پہرا بدل دیا

فاطمہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم