MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نگاہ ناز کا حاصل ہے اعتبار مجھے

نگاہ ناز کا حاصل ہے اعتبار مجھے
ہوائے شوق ذرا اور بھی نکھار مجھے

کبھی زباں نہ کھلی عرض مدعا کے لیے
کیا ہے پاس ادب نے بھی شرمسار مجھے

پرانے زخم نئے داغ ساتھ ساتھ رہے
ملی تو کیسی ملی دعوت بہار مجھے

پھر اہل ہوش کے نرغے میں آ گیا ہوں میں
خدا کے واسطے اک بار پھر پکار مجھے

بکھر رہی ہے محبت کی روشنی ہر سو
اڑا رہا ہے کوئی صورت غبار مجھے

نہ جانے کون سا ہے شعبدہ تعاقب میں
کہ آج اس نے کہا ہے وفا شعار مجھے

جو آپ آئیں تو یہ فیصلہ بھی ہو جائے
دکھائی دیتا ہے موسم تو خوش گوار مجھے

ہزار بار سکون حیات کی حد میں
ہزار بار کیا دل نے بے قرار مجھے

مرے شباب مری زندگی مرے ماضی
زبان حال سے اک بار پھر پکار مجھے

وہ بات جس پہ مدار وفا ہے یزدانیؔ
وہ بات کہنا پڑے گی حضور یار مجھے

یزدانی جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم