MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندہ رہنے کا وہ افسون عجب یاد نہیں

زندہ رہنے کا وہ افسون عجب یاد نہیں
میں وہ انساں ہوں جسے نام و نسب یاد نہیں

میں خیالوں کے پری خانوں میں لہرایا ہوں
مجھ کو بے چارگیٔ محفل شب یاد نہیں

خواہشیں رستہ دکھا دیتی ہیں ورنہ یارو
دل وہ ذرہ ہے جسے شہر طلب یاد نہیں

گرد سی باقی ہے اب ذہن کے آئینے پر
کیسے اجڑا ہے مرا شہر طرب یاد نہیں

تبصرہ آپ کے انداز کرم پر کیا ہو
مجھ کو خود اپنی تباہی کا سبب یاد نہیں

خود فراموشی نے تکلیف کی شدت کم کی
مجھ کو کب یاد تھے یہ ظلم جو اب یاد نہیں

مجھ سے پوچھا جو گیا جرم مرا محشر میں
داور حشر سے کہہ دوں گا کہ اب یاد نہیں

عجز کے ساتھ چلے آئے ہیں ہم یزدانیؔ
کوئی اور ان کو منا لینے کا ڈھب یاد نہیں

یزدانی جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم