MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گا

جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گاگئے دنوں کے بعد عہد حال بھی نہ آئے گا مری سخن سرائیوں کا اعتبار تو نہیںجو تو نہیں تو ہجر کا سوال بھی نہ آئے گا اگر وہ آج رات حد التفات توڑ دےکبھی پھر اس سے پیار کا خیال بھی نہ آئے گا شب […]

جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گا Read More »

لرزاں ترساں منظر چپ

لرزاں ترساں منظر چپآرمیدہ گھر گھر چپ یہ کیسی ہے راہ بریراہی چپ تو رہبر چپ گوپی چندر ڈوب گیاسہما ہرا سمندر چپ دشمن ایماں پیش نظراندر ہلچل باہر چپ نقالی پر نازاں تھاشاعر دیکھ کے بندر چپ رات میں کیا کیا عیش ہوئےتنہا میں تھا بستر چپ ہلکی پھلکی ایک غزلمحفل برہم یاورؔ چپ

لرزاں ترساں منظر چپ Read More »

مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیا

مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیاارتقا نے زندگی کا زخم گہرا کر دیا ڈیڑھ نیزے پر ٹنگے سورج کی آنکھیں نوچ لوبے سبب دہشت زدہ ماحول پیدا کر دیا فکر کی لا‌ مرکزیت جاگتی آنکھوں میں خوابہم خیالی نے زمانے بھر کو اپنا کر دیا اک شجر کو جسم کی نم سبز

مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیا Read More »

مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئی

مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئیسحر تو ہو نہ سکی اور پھر سے شام ہوئی کھلا جو مجھ پہ ستم گاہ وقت کا منظرتو مجھ پہ عیش و طرب جیسی شے حرام ہوئی مرے وجود کا صحرا جہاں میں پھیل گیامرے جنوں کی نحوست زمیں کے نام ہوئی ابھی گری مری دیوار جسم اور

مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئی Read More »

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھی

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھیپھر بھی سورج سے مری ہم سفری رہنا تھی موسم دید میں اک سبز پری کا سایہاب گلہ کیا کہ طبیعت تو ہری رہنا تھی میں کہ ہوں آدم اعظم کی روایت کا نقیبمیری شوخی سبب در بہ دری رہنا تھی خواب عرفان حقیقت کے تمنائی تھےزندگی اور مری

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھی Read More »

شہر سخن عجیب ہو گیا ہے

شہر سخن عجیب ہو گیا ہےناقد یہاں ادیب ہو گیا ہے جھوٹ ان دنوں اداس ہے کہ سچ بھیپروردۂ صلیب ہو گیا ہے گرمی سے پھر بدن پگھل رہے ہیںشاید کوئی قریب ہو گیا ہے آبادیوں میں ڈوب کر مرا دلجنگل سے بھی مہیب ہو گیا ہے کیا کیا گلے نہیں اسے وطن سےیاورؔ کہاں

شہر سخن عجیب ہو گیا ہے Read More »

سخن کو بے حسی کی قید سے باہر نکالوں

سخن کو بے حسی کی قید سے باہر نکالوںتمہاری دید کا کوئی نیا منظر نکالوں یہ بے مصرف سی شے ہر گام آڑے آنے والیانا کی کینچلی کو جسم سے باہر نکالوں طلسمی معرکے کہتے ہیں اب سر ہو چکے ہیںذرا زنبیل کے کونے سے میں بھی سر نکالوں لہو مہکا تو سارا شہر پاگل

سخن کو بے حسی کی قید سے باہر نکالوں Read More »

اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غم

اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غممبتلائے صد آرزو ہیں ہم دل بھی لوح و قلم کا ہمسر ہےداستانیں ہیں کتنی دل پہ رقم عظمت رفتگاں ہے نظروں میںاپنے ماضی کو ڈھونڈتے ہیں ہم پارہ پارہ ہے خود جنوں لیکنفکر انساں اسی سے ہے محکم بھیگی بھیگی ہے ہر کرن ان کیہے ستاروں کی آنکھ

اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غم Read More »

جادۂ زیست پہ برپا ہے تماشا کیسا

جادۂ زیست پہ برپا ہے تماشا کیسادوست بچھڑا ہے ہر اک گام پہ کیسا کیسا دل کا آتش کدہ ویران پڑا تھا کب سےآنکھ سے بہنے لگا آگ کا دریا کیسا اس پہ تو فصل خزاں مار چکی ہے شب خوںموسم گل کے گزر جانے کا کھٹکا کیسا چاند سے چہرے نظر آنے لگے ہیں

جادۂ زیست پہ برپا ہے تماشا کیسا Read More »

جہاں کچھ لوگ دیوانے بنے ہیں

جہاں کچھ لوگ دیوانے بنے ہیںبڑے دلچسپ افسانے بنے ہیں حقیقت کچھ تو ہوتی ہے یقیناًکہیں جھوٹے بھی افسانے بنے ہیں بہت نازاں تھے جو فرزانگی پرانہیں دیکھا تو دیوانے بنے ہیں کہ انداز نظر کی آذری سےدلوں میں کتنے بت خانے بنے ہیں جو شعلہ شمع کے دل میں ہے روشناسی شعلے سے پروانے

جہاں کچھ لوگ دیوانے بنے ہیں Read More »