MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا
میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا

بہم جو محفل اغیار میں رہے تھے کبھی
یہ سلسلہ بھی شناسائیوں نے توڑ دیا

بس ایک ربط نشانی تھا اپنے پرکھوں کی
اسے بھی آج مرے بھائیوں نے توڑ دیا

تو بے خبر ہے مگر نیند سے بھری لڑکی
مرا بدن تری انگڑائیوں نے توڑ دیا

خزاں کی رت میں بھی میں شاخ سے نہیں ٹوٹا
مجھے بہار کی پروائیوں نے توڑ دیا

مرا بھرم تھا یہی ایک میری تنہائی
یہ اک بھرم بھی تماشائیوں نے توڑ دیا

فاضل جمیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم