Dekhta Hoon main bhi aksar Aaina
غزل
دیکھتا ہوں میں بھی اکژ آئینہ
ظرف کو اپنا بنا کر آئینہ
میں کنار آبجو بیٹھا رہوں
کیا کوئی ہے اس سے بہتر آئینہ
پھول کی خوشبو ہوا کے دوش پر
رقص کرتی ہے چھپا کرآئینہ
میں کسی شہزادئ بےنام سے
کیسے مانگوں گا مکرر آئینہ
کوئی تو چہرہ اسے ایا ہے یاد
رکھ لیا ہے اس نے دل پر آئینہ
کس نے دیکھا ہے محبت سے مجھے
بن گیا ہر ایک منظر آئینہ
دیکھ سارب کون ہے اس شہر میں
میں دیکھا ہے گداگر آئینہ
رشید سارب
Rasheed Sarib