MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال
تمہارے قدموں کی آندھی میں ہو گئے پامال

ترے بدن کی مہک نے سلا دیا تھا مگر
ہوا کا اندھا مسافر چلا انوکھی چال

وہ ایک نور کا سیلاب تھا کہ اسی کا سفر
وہ ایک نقطۂ موہوم تھا کہ یہ بد حال

عجیب رنگ میں وارد ہوئی خزاں اب کے
دمکتے ہونٹ سلگتی نظر دہکتے گال

ترے کرم کی تو ہر سو مہکتی برکھا تھی
ہمیں تھے جن کو ہوا بھیگا پیرہن بھی وبال

وزیر آغا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم