MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا
کرمک شب ہوں مرا جلنا بھی کیا بجھنا بھی کیا

اک نظر اس چشم تر کا میری جانب دیکھنا
آبشار نور کا پھر خاک پر گرنا بھی کیا

زخم کا لگنا ہمیں درکار تھا سو اس کے بعد
زخم کا رسنا بھی کیا اور زخم کا بھرنا بھی کیا

تیرے گھر تک آ چکی ہے دور کے جنگل کی آگ
اب ترا اس آگ سے ڈرنا بھی کیا لڑنا بھی کیا

در دریچے وا مگر بازار گلیاں مہر بند
ایسے ظالم شہر میں جینا بھی کیا مرنا بھی کیا

تجھ سے اے سنگ صدا اس ریزہ ریزہ دور میں
اک ذرا سے دل کی خاطر دوستی کرنا بھی کیا

وزیر آغا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم