MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

غزل

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

وہ وقت بھی خدا نہ دکھائے کبھی مجھے
ان کی ندامتوں پہ ہو شرمندگی مجھے

رونے پہ اپنے ان کو بھی افسردہ دیکھ کر
یوں بن رہا ہوں جیسے اب آئی ہنسی مجھے

یوں دیجئے فریب محبت کہ عمر بھر
میں زندگی کو یاد کروں زندگی مجھے

رکھنا ہے تشنہ کام تو ساقی بس اک نظر
سیراب کر نہ دے مری تشنہ لبی مجھے

پایا ہے سب نے دل مگر اس دل کے باوجود
اک شے ملی ہے دل میں کھٹکتی ہوئی مجھے

راضی ہوں یا خفا ہوں وہ جو کچھ بھی ہوں شکیلؔ
ہر حال میں قبول ہے ان کی خوشی مجھے

شکیل بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم