MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا

غزل

دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا
ان سے بھی راز عشق چھپایا نہ جائے گا

سر کو کبھی قدم پہ جھکایا نہ جائے گا
ان کے نقوش پا کو مٹایا نہ جائے گا

بے وجہ انتظار دکھانے سے فائدہ
کہہ دیجئے کہ سامنے آیا نہ جائے گا

آنکھوں میں اشک قلب پریشاں نظر اداس
اس طرح ان کو چھوڑ کے جایا نہ جائے گا

وہ خود کہیں تو شرح محبت بیاں کروں
نغمہ بغیر ساز سنایا نہ جائے گا

بہتر یہی ہے ذکر محبت نہ چھیڑئیے
نقشہ بگڑ گیا تو بنایا نہ جائے گا

دل کی طرف شکیلؔ توجہ ضرور ہو
یہ گھر اجڑ گیا تو بسایا نہ جائے گا

شکیل بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم