MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خدایا ، کس لیے دنیا بنی ہے

خدایا ، کس لیے دنیا بنی ہےترے دوزخ میں شاید کچھ کمی ہے زمانہ اس پہ دیکھو ہنس رہا ہےوہ جس نے دوستی میں جان دی ہے ہیں کتنی منزلیں اس زندگی میں؟ہر اک منزل ہماری عارضی ہے تری مرضی سے گر ہِلتا ہے پتّہسزا کس جرم کی پھر ہم کو دی ہے ترے طوفان […]

خدایا ، کس لیے دنیا بنی ہے Read More »

دل کیا جلا ، کہ داغ وفاؤں کے گھٹ گئے

دل کیا جلا ، کہ داغ وفاؤں کے گھٹ گئےموسم دھواں دھواں ہوئے آ کر پلٹ گئے کس زاویے سے آئے میری زندگی میں تمجتنے تھے میرے سائے وہ سب مجھ سے کٹ گئے چپ چاپ زندگی بھی کھڑی دیکھتی رہیٹکڑے جگر کے سب میرے رشتوں میں بٹ گئے پتھر غموں کے اتنے تھے اس

دل کیا جلا ، کہ داغ وفاؤں کے گھٹ گئے Read More »

یہ کائنات ہے کیا ، دشت کیا ، مکاں کیا ہے

یہ کائنات ہے کیا ، دشت کیا ، مکاں کیا ہےبس ایک جذبۂ تخلیق ہے جہاں کیا ہے خدا نے دیکھ کے تابِ تجسسِ انساںنظر پہ حد سی لگا دی ہے آسماں کیا ہے گلا کے چھوڑے گا ہر شئے کو وقت کا تیزابسوائے نورِ خدا اور جاوداں کیا ہے بس ایک غیب کی تلوار

یہ کائنات ہے کیا ، دشت کیا ، مکاں کیا ہے Read More »

جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائے

جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائےکل ہمیں جانے کہاں وقت اٹھا لے جائے خدمت خلق سے ہستی کو فروزاں کر لےکیا پتہ کون سی ظلمت میں قضا لے جائے اس لیے کوئی جہاں سے نہ گیا کچھ لے کرکیا ہے دنیا میں ، کوئی ساتھ بھی کیا لے جائے بانٹ دے سب

جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائے Read More »

اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھا

اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھامنزلیں تھیں سامنے پر راستہ کوئی نہ تھا زندگی میں جو ملے اچھے لگے ، اپنے لگےمیں تو سب کا ہو گیا لیکن میرا کوئی نہ تھا کس قدر بچ کر چلا میں کتنا آہستہ چلامڑ کے جب دیکھا تو اپنا نقشِ پا کوئی نہ تھا غم

اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھا Read More »

جتنا سہتا ہوں زمانے کی جفا ہر لمحہ اور

جتنا سہتا ہوں زمانے کی جفا ہر لمحہ اوراتنا آتا ہے سمجھ مجھ کو خدا ہر لمحہ اور ہو رہے ہیں میرے دل کے جتنے ٹکڑے بار باراس سے ہوتا جا رہا ہوں آشنا ہر لمحہ اور کر رہا تھا میں توقع اس سے رحمت کی مگروہ بڑھاتا ہی گیا میری سزا ہر لمحہ اور

جتنا سہتا ہوں زمانے کی جفا ہر لمحہ اور Read More »

تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی

تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگیجسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیں اس طرح فریاد کرنے کو کلیجہ چاہئےاب کوئی گلشن میں میرا ہم نوا ہوتا نہیں وہ محبت آفریں دیتا ہے حسب ظرف عشقپھر کسی سے بھی طلب گار وفا ہوتا نہیں اک تخیل ہے کہ جس میں محو ہے میرا

تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی Read More »

ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے

ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہےخیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہے غم فراق میں دل کیوں نہ درد مند رہےبہار آ کے گئی ہم قفس میں بند رہے خدا کی یاد میں دنیا کو بھول جا اے دلوہ کام کر کہ ہر اک طرف سود مند رہے ملے کہ کچھ نہ ملے

ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے Read More »

یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے

یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتےترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتے قفس میں بھی مجھے صیاد کے ہاتھوں سے ملتے ہیںمری تقدیر کے لکھے ہوئے دانے کہاں جاتے نہ چھوڑا ضبط نے دامن نہیں تو تیرے سودائیہجوم غم سے گھبرا کر خدا جانے کہاں جاتے میں اپنے آنسوؤں کو

یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے Read More »

تِیرہ بختی کو کسی طرح چُھپایا نہ گیا

تِیرہ بختی کو کسی طرح چُھپایا نہ گیادو قدم چھوڑ کے مجھ کو مِرا سایا نہ گیا تیرے آگے سرِ تسلیم جُھکایا نہ گیاتیرے ہوتے بھی خُدا تجھ کو بنایا نہ گیا الله الله ، مِرے دل میں سمانے والےوُسعتِ کون و مکاں میں بھی سمایا نہ گیا کاش کچھ اور مِری عُمْر وفا کرجاتیاُن

تِیرہ بختی کو کسی طرح چُھپایا نہ گیا Read More »