MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھا

اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھا
منزلیں تھیں سامنے پر راستہ کوئی نہ تھا

زندگی میں جو ملے اچھے لگے ، اپنے لگے
میں تو سب کا ہو گیا لیکن میرا کوئی نہ تھا

کس قدر بچ کر چلا میں کتنا آہستہ چلا
مڑ کے جب دیکھا تو اپنا نقشِ پا کوئی نہ تھا

غم سے سب ہارے ہوئے تھے زندگی کی دوڑ میں
سورما بھی تھے مگر جیتا ہوا کوئی نہ تھا

رات کچھ ایسا لگا جیسے سحر سی ہو گئی
اک دیا بس جل رہا تھا بولتا کوئی نہ تھا

رازؔ تھے احباب اپنے دوست اور محبوب بھی
جو نبھاتا ایک رشتہ درد کا ، کوئی نہ تھا

رازداں راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم